Betabi

بیتابی
خواجہ غلام قطب الدین فریدی

شعر کا ضاہری ہیولہ عروضی ضوابط کا پابند ہوتا ہے کہ اس میں اوزان کی پابندی،قوافی کی پاسداری اور حرفِ روی اور مچریٰ کی راستی کا اہتمام ضروری ہوتا ھے، اختیار کلمات کا حسن اور موسیقی کلام کا جمال شعر کو قبولیت کی سند عطا کرتے ھیں، شعر کی داخلی فضا اُس روحِ معنی سے عبارت ھے جو ہر کلمہ کو زندگی عطا کرتی ہے، خوبصورت لفظ دلکش انداز میں ترتیب پائیں اور حسن معنی اس ترتیب کو ایک زندہ حقیقت بنا دے تو شعر سر بسر حکمت ہی نہیں ہوتا ہمہ تر سحر بھی ہوتا ھے، یہ جزب و کیفیت جب پیکر شعر کو ایک متحرک صورت عطا کرتے ہیں تو شعر اثر آفرینی کی معراج پر ہوتا ہے، کہا گیا ہے کہ لفظ و معنی میں جسم و روح کا تعلق ہے، جسم کی سج دھج کا ایک مقام ہے مگر اس کی رونق روح کے حوالے سے ہے، یہ حوالہ نہ ہو تو جسم مردہ ہے اور مردے کو کس قدر بھی عملی مومیائی سے گزارا جائے باعثِ نشاط نہیں لائقِ عبرت ہے، شعر میں شاعر کے شعور کی ایک ایسی زندہ جھلک چاہیے جو جذبہ صادق سے ناشی ہو تاکہ ہر قاری اور سامع اسے اپنے دل کی آواز اور روح کی تڑپ خیال کرے، شعر کی زندگی اِنہیں جزبوں سے عبارت ہے، ایسے جزبوں کا حامل شعر زمانے کی قید میں نہیں رہتا بلکہ اُس کا دوام اپنے وجود سے برقرار رہتا ہے وگرنہ کتنے دیوان مرتب ہوتے رہے اور مرتب ہوتے رہیں گے مگر زمانے کی گرد ان کو اوراق گم گشتہ کے اندھے کنویں میں پھینک دیتی ہے، علماء شعر نے شعر کی بقا کے چند اسباب گنے ہیں، شعر اپنے وجود کی بناء پر زندہ رہنے کی قوت ہو تو وہ شاعر کا بھی محتاج نہیں رہتا کتنے شعر آفاقی حقائق بن کر ہر دور کے شعور کا حصہ ہیں مگر وہ کس شاعر کے ہیں؟ یہ صرف ایک علمی مبحث بن کر انتساب کے انتشار کا شکار ہے’ بعض شعر، شاعر کے وجود کی برتری کے سہارے زندہ ہیں جیسے خلفاء اور حکمرانوں کے اشعار ‘ کچھ شعر ایسے بھی ہیں جن کی نسبت کسی نامور بزرگ یا سراپا احترام شخصیت سے ہے اس لیے وہ شعر کی خاطر کم اور نسبت کے حوالے سے زیادہ لائق توجہ رہے ہیں، ایسے اشعار سہاروں کے محتاج ہوتے ہیں اور وہ مقصود بالذات نہیں ہوتے، شعر دراصل وہی زندہ ہے جسے کسی نسبت یا لاحقے کی ضرورت نہیں ہوتی، ہاں اگر ایسا لاحقہ مل بھی جائے تو اضافی عظمت کا ذریعہ بنتا ہے۔
صوفیاء کرام کی مجالس میں شعر خوانی کا رواج ہمیشہ سے رہا ہے کہ شعر ایصالِ جذبات کا موثر ذریعہ ہیں۔ مگر بعض صوفیاء کے ہاں شعر کا معیار اس قدر بلند رہا ہے کہ اُن کے اشعار کو شعری معیار کے کسی حوالے سے بھی جانچا جائے وہ لائق عظمت اور قابلِ التفات ٹھہرتے ہیں، علامہ ابن الفارض علیہ الرحمتہ یا امام بوصیری علیہ الرحمتہ کے شعری محاسن کو کسی کرامت یا معاشرتی تقدس کا زینہ درکار نہیں، مولانا احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمتہ کی عظمت اور دینی مقام کا حوالہ نہ ہی دیا جائے تو ان کی شاعری اپنی شعری منزلت کی وجہ سے ہی پرکشش اور لائق مطالعہ ہے۔ عصر حاضر میں پیر نصیرالدین نصیر گولڑہ شریف کا شعری مقام اُن کی سجادہ نشینی کا محتاج نہیں اس لیے کہ ان کے شعروں میں زندہ رہنے کی قوت موجود ہے، خواجہ غلام قطب الدین فریدی کا شعری ذوق بھی اپنی عظمت خود منوا رہا ہے، آپ یقیناً ایک صوفی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں، یہ سچ ہے کہ اُن کے قلب و نظر پر خواجہ محمد یار فریدی علیہ الرحمتہ کی برکات کا سایہ ہے، جزب دروں کی تمازت، ذہن رسا کی حدت اور صیانتِ کردار کا جوہر ان کا ایسا ورثہ ہے جو اپنی لَو سے گردو پیش کو جگمگاتا رہے گا، تصور کے گداز اور سلسلہ چشتیہ کی وارفتگی نے آپ کے کردار اور آپ کے رویوں میں ایک وقار کی افزائش کی ہے، خواجہ علیہ الرحمتہ کی مستی تو آپ کی شناخت ہے ہی مگر خواجہ محمد یار فریدی علیہ الرحمتہ کے عشق نے آپ میں دربارِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے والہانہ وابستگی کو مزید جلا بخشی ہے، اس عصرِ بے توفیق میں جبکہ سعادت گاہوں کا تقدس پامال ہو رہاہے، عمل کی بساط ہی نہیں علم کی مسند بھی جنس نایاب ہوتے جا رہے ہیں، اگر کہیں سے کردار و عمل اور علم و تزکیہ کی کوئی صورت دکھائی دے تو مایوسیوں کے گرداب میں امید کی روشنی جینے کا حوصلہ دیتی ہے۔ خواجہ غلام قطب الدین مدظلہ سے جب پہلی مرتبہ شرف ملاقات حاصل ہوا۔ یہ لمحۂ وصال اگرچہ مختصر بھی تھا اور سر راہ بھی مگر شخصیت کا ایک عکس سطح ذہن پر رقص کرنے لگا، اس قدر وقار مگر اس قدر انکسار، یہ قران السعدین تو خواب و خیال ہو چکا تھا، حیرت ہے یہ لمحہ گزاری ایسا نقش چھوڑ گئی کہ اک تعلقِ محبت قائم ہو گیا، الحمد للہ پھر آپ سے نیاز مندی میں کیف محسوس ہونے لگا اور پھر ملاقات، قربِ خاطر کی تحریک کو جنم دیتی رہی، ایک امید سی پیدا ہونے لگی کہ خانقاہیں، زاویے اور آستانے اب بھی علمی وقار اور علمی وجاہت کے مرکز بن سکتے ہیں، تعمیر کردار کا مثالی دور پھر واپس آسکتا ہے، کاش ایساہو جائے تاکہ حضرت اقبال علیہ الرحمتہ کا یہ شکوہ دور ہو جائے کہ تین سو سال سے برصغیر کے میخانے بند ہو چکے ہیں، کاش خانقاہوں کے مسند نشین پھر سے اسوۂ شبیری ادا کرنے کی تحریک پا سکیں، خواجہ صاحب کے وجود سے ایسی دعائیں پھر لبوں پر آنے لگی ہیں، اللہ کرے یہ دعائیں مستجاب ہوں۔ آمین
معذرت خواہ ہوں کہ بہک گیا ہوں، میں تو خواجہ صاحب کے مجموعہ شعر ” بیتابی ” کے بارے میں کچھ تاثرات پیش کرنا چاہتا تھا۔ “بیتابی”کا مطالعہ میرے اندر بھی بیتابیوں کا ایک طوفان اٹھا گیا، خانقاہ، مسند نشینی، دست بوسیوں کا سلسلہ، نیاز مندیوں کا ہالہ اور ایسا مجموعہ شعر جو صرف عروضی مشق نہیں اور نہ ہی بے جان حرفوں کی ایک شعوری قطار، حیرت بھی ہوئی اور حوصلہ بھی بڑھا۔ یہ ترتیب کلمات کی ایک کاوش ترکیب جزبات کا ایک مرقع ہے، انتخاب الفاظ میں ایک سلیقہ تو تدوین معانی میں ایک قرینہ، لفظ، لفظ با وضو اور با ادب ہے، یہ مصرعوں کی پریڈ نہیں، محبتوں کی ایک صف بندی ہے، ہر دفعہ دامنِ دل کھینچتا رہا، اس میں حمد ہے، نعت ہے، منقبت ہے، غزل ہے، عنوان جدا جدا ہیں مگر اول سے آخر تک ایک ہی جزبہ کار فرما ہے، صوفیانہ سرمستی کے آثار بھی ہیں اور عالمانہ وقار کے مظاہر بھی ہیں۔ شعر کی حدود کا احساس بھی ہے اور ممدوح عیہ الصلوۃ والسلام کی بلند منزلت کا شعور بھی ہے، جنبش لب کی حد بندی سے آگہی بھی ہے اور دربار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی آداب کے قرآنی فرامین کی باخبری بھی، نعت کامل خود سپردگی کا نتیجہ ہے۔ ذات اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فضائل، خصائل اور شمائل جب اپنے ہمہ گیر اثرات سے قلب و نظر کی تسخیر کرتے ہیں تو قلبِ مخمور کا والہانہ پن نعت کا متحرک بنتا ہے۔ “بیتابی” میں شامل نعتوں کا مجموعی تاثر ایک قلبِ مخمور کا ہی ہے، محبت کبھی صفات کاری میں تسکین پاتی ہے تو کبھی جمالِ محبوب کے تذکروں میں راحت محسوس کرتی ہے، کبھی زاتِ محبوب موضوع بنتی ہے تو کبھی متعقلاتِ محبوب کی یاد حرفوں کا روپ دھارتی ہے۔ اس تمام کاوش میں اگر محبت پابند آداب رہے اور حدودِ شریعت کا حصار رہے تو ایسی مدحیہ شاعری وجود میں آتی ہے جو محمود بھی ہوتی ہے اور باعثِ نجات بھی۔ خواجہ صاحب کی نعتیہ شاعری سے ایک باادب محبّ اور حدود آشنا عاشق کا تاثر ابھرتا ہے، میر تقی میر نے کہا تھا

دور بیٹھا غبار میر ان سے
عشق بن یہ ادب نہیں آتا

خواجہ صاحب کی اس شاعری میں اس ادب شناس روش کا بار بار احساس ہوتا ہے۔ مدینہ منورہ کے حوالے سے تقریباً ہر نعت میں کوئی نہ کوئی اشارہ اس راہیٔ محبت کی قلبی کیفیات کا پتہ دیتا ہے، صرف چند شعر اس تڑپ کی غمازی کے لیے کافی ہیں۔

دل تو بھر آیا ہے شہر مصطفٰی کی یاد میں
تو بتا آخر تجھے کیا دیدۂ تر ہو گیا

آرزو ہے کہ تیرا گنبدِ خضریٰ دیکھوں
جس طرف آنکھ اُٹھے نور برستا دیکھوں
بیٹھنے چین سے دیتی نہیں حسرت دل کی
اب کسی طور تیرا نقشِ کفِ پا دیکھوں

جس ارضِ مقدس کا ہر اک گوشہ حرم ہے
مدفن کے لیے کاش میسر وہ زمیں ہو

میں نہ مر جاؤں کہیں ہجر کے صحراؤں میں
عمر گزرے درِ سرکار پہ آتے جاتے

یہ ہجر کا گداز اور حاضری کا ارمان ارضِ مقدس کی عظمتوں اور حضوری کی رحمتوں کا شمار کرنے لگتا ہے۔

ذرّے اُس خاک کے تابندہ ستارے ہوں گے
جس جگہ آپ نے نعلین اُتارے ہوں گے

شاہوں سے کچھ غرض نہ کسی تاجور سے ہے
میری تو آشنائی ترے سنگِ در سے ہے
جس راہ سے وہ سروِ خراماں گزر گیا
نسبت میری جبیں کو اسی راہ گزر سے ہے

اور حرماں نصیبی کی حدت حاضری کے کیف میں ڈھلتی ہے تو جذبوں کی فضا ہی بدل جاتی ہے۔

ہر سانس میں بو باس ہے حب نبوی کی
مہکا گئی رعنائی گلزارِ مدینہ
پابندِ ادب چاہیے سانس اور نظر بھی
نازک ہے بہت عرش سے دربارِ مدینہ

اور پھر حاضری دربار اور زائر حرمِ نبوی کا ترانہ

در آقا پہ بہر التجا اتنا ہی کافی ہے
کرم سرکار ہو جائے کرم سرکار ہو جائے

مگر یہ احساس بھی عقیدتِ خالص کا ایک پرتو ہے۔

عالم یہ ندامت کا ہے لب کھلتے نہیں ہیں
مجرم ہوں درِ شافع محشر پہ کھڑا ہوں

اب شاعر محبت ہے اور درِ محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، اس لیے ایک گونہ اطمینان بھی ہے ۔

یارانِ تیز گام کو جنت کی ہے تلاش
پا کر درِ حبیب یہ حسرت بھی مر گئی

اب تو دعا میں بھی کیفِ حضوری ہے۔

طیبہ کی سرزمیں ترے بام و در کی خیر
تجھ سے ہے دل کو چین نظر کو قرار ہے

اس لیے یہ اعتراف بھی ہے۔

اے بادشاہِ حسن کرم میرے حال پر
اس قطب کا کرم پر ہی دار و مدار ہے

مدینہ منورہ شہر محبت ہے اور محبت اپنی صداقتوں میں ہمہ فعال ہوتی ہے اسی لیے تو کوہ احد کے بارے میں ارشاد ہوا تھا کہ “یہ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں” سنگ و خشت بھی محبت کی جولانیوں سے مہکنے لگتے ہیں کہ مکان، مکین کی نسبت سے عزت و احترام پاتے ہیں،خواجہ صاحب کو اس فعالیت کا گہرا احساس ہے اس لیے آپ کا ہر شعر اسی فعالیت کا مظہر ہے، اس احساس کی جلوہ نمائی دیکھیے۔

اللہ اللہ نطق پیغمبر میں یہ اعجاز ہے
سنگ ریزے بھی ہوئے ہیں آشنا گفتار سے

یہ سنگ ریزے، خاک، مسیحائی کے حوالے بھی ہیں اور سکونِ قلب کا ذریعہ بھی۔

قطب جب خاک مدینہ ہے ہر اک غم کا علاج
کیا غرض ہے کہ کوئی اور مسیحا دیکھوں
ٹھہرتی نہیں ہے ذرا بھی طبیعت
میں تھوڑی سی خاکِ حرم چاہتا ہوں

یہ چاہت، یہ تمنا اور یہ طلب وارفتگی میں ڈوبی ہوئی ہے سراپا التجا ہے مگر ادب شناس بھی ہے۔

یہاں پہ سانس بھی لینا ادب سے
یہاں حکم خدا وندی لا تر فعوا ہے

مدح نطاری کے سب حوالے شاعر رنگین نوا کی عقیدت سے عطر بیز ہیں اس لیے مدح اور استغاثہ بڑے سلیقے کی یکجائی ہے۔ مثلاً

جس حسن کی نظیر نہیں کائنات میں
اے بادشاہِ حسن وہ تیرا جمال ہے

کائنات زیست ہے روشن تیرے انوار سے
ساری قدریں فیض پاتی ہیں ترے کردار سے
اس چہرہ حضور سے سب زندگی کے رنگ
اور اسوۂ جناب سراپا بہار ہے
وہ جس کی گرد راہِ کواکب کی آبرو
ارض و سما کی آن وہی شہسوار ہے

استغاثہ و استعانت کا اظہار بھی عظمت و جلال اور رفعت و کمال کے انہی سائیوں میں رہتا ہے، چند شعر

اٹھ گئ جب تری جانب وہ کرم بار نظر
اس گھڑی قطب ترے وارے نیارے ہوں گے

ہے محتسب بھی پیش حضور اضطراب میں
فردِ گناہ اس کی نہ جانے کدھر گئی

وہ خوب جانتے ہیں مری حال زار کو
میں بندۂ حبیب علیم و خبیر ہوں

اگر مجھ پر تیری چشم کرم اک بار ہو جائے
میری کشتی شہا طوفانِ غم سے پار ہو جائے

قیامت کا وہ دن بھی ایک روز عید ٹھہرے گا
سرِ محشر اگر سرکارکا دیدار ہو جائے

تشنۂ تکمیل ہے اب تک مری قوس حیات
حلقۂ کامل بنا دے لذتِ دیدار سے

بے قراری سے مجھے ڈھونڈھ رہی ہے بخشش
شاید اُس نے ترے اَبرو کا اشارہ دیکھا

گور میں آکے چلے جائیں گے کچھ پوچھے بغیر
پاسداری تری نسبت کی نکیرین میں ہے

یہ شعر پڑھتے دتو رام کوثری جو فیضانِ نعت سے کوثر علی کوثری ہو گیا، کا یہ شعر سطح ذہن پر تیرنے لگا۔

منکر نکیر کرنے لگے عزر و معزرت
کس کا لیا ہے نام یہ صاحب مزار نے

خواجہ قطب فریدی عصر حاضر کے تقاضوں سے مکمل آگاہی رکھتے ہیں، امت کی زبوں حالی اور لاچاری کا دُکھ آپ کے خیالات میں یوں رچا ہوا ہے کہ مدح و ثنا کی محویت میں بھی نمایاں ہونے لگتا ہے، یہ شاعر کےلمحہ موجود سے باخبر ہونے کا ثبوت ہے کہتے ہیں۔

یہ امت لاچار زبوں حال بہت ہے
پھر عظمت کردار سے معمور فضا ہو
منگتا ترا کیوں جائے کسی غیر کے در پر
جو تو نے دیا جب وہ طلب سے بھی سوا ہو

خواجہ صاحب کو اس اظہار عقیدت پرکوئی فخر نہیں یہ تو ممدوح کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہی کرم ہے۔

جب سے ہے دل میں عشق محمدؐ بسا ہوا
میرا یہ دل ہے گلشن رحمت بنا ہوا
ذوقِ سلیم، شوق تمنا، حبّ پنجتن
سب کچھ اسی جناب سے مجھ کو عطا ہوا

یہ شاعری ہے نہ کوئی سخن طرازی ہے
چمک رہے ہیں عقیدت کے کچھ نگینے سے
کیا عظمت سرکار بیاں ہو گی بشر سے
پابوس جب اسی نور کا وہ سدرہ نشیں ہے

خواجہ صاحب کا یہ شعر پڑھتے ہوئے علامہ اقبال علیہ الرحمتہ یاد آگئے، خواجہ صاحب کا کہنا ہے

سر تو بس جھکتا ہے سوئے بیت حرم
سجدۂ دل رُخِ محبوب کے قوسین میں ہے

علامہ فرماتے ہیں

تو فرمودی رہ بطحا گرفتیم
وگرنہ جُز تو مارا منزل نیست

“بیتابی” میں منقبت کے حوالے سے بھی چند شعر ہیں جو بظاہر ایک روایت نبھانے کے لیے ہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاعر کا طائر فکر گنبد خضریٰ کے حصار ہی رہنا پسند کرتا ہے۔ اس مجموعہ شعر میں چند غزلیں بھی ہیں مگر ان کو پڑھ کر بھی ایسا ہی احساس ابھرتا ہے کہ یہ صرف حرم سرے محبوب کی غلام گردشیں ہیں کہ یہاں رکنا مقصود نہیں اس لیے ان سے گزرتے ہوئے کاشانۂ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیش نظر رہا ہے۔ کہیں کہیں صوفیانہ مزاج بھی نمودار ہوتا ہے مگر یہاں تصوف بے باک سرمستی نہیں بنتا، حدود شریعت کا پاسدار ہی رہتا ہے، غزل
کے پیرہن میں وجودِ نور کی تابانیاں دیکھئے۔

خاموش سا، اُداس سا، بے جان سا ہے دل
جب اُن کا نام لوں تو دھڑکتا ہے رات دن

کیونکر نہ کرے ناز مرا ذوقِ عبادت
تابندہ جبیں جب ہے ترے نقشِ قدم سے

سجی ہے کہکشاں جو آسماں پر
کہ تیری گرد راہ کو پا گئ ہے

میں اُن کا نام لیتا جا رہا ہوں
میرے سب کام ہوتے جا رہے ہیں

میرے خوابوں میں آ جائیں گے شاید
یہی امید لے کر سو گیا ہوں

نہ مجھے حرم کی تلاش ہے نہ ہے دیر سے کوئی واسطہ
مری آرزو تری راہگزر مری جستجو ترا نقشِ پا

کتابوں سے نہ مکتب سے غرض ہے
مری گتھی نظر سلجھا گئ ہے

نعت کے سایوں میں اور وحدت الوجود کی الست مستی میں سخن دل زار کی جولانیاں قاری کو مسلسل متوجہ رکھتی ہیں۔ غزل تو ایک وقفۂ استراحت ہے کہ خیال و فکر حجاز کے صحرا میں بھٹکنے میں عافیت پاتے ہیں، شعر پر گرفت اس میدانِ حجاز میں اپنی پختہ کاری دکھاتا ہے،ایسی رند مشربی کے چند حوالے دیکھئے۔

آنسو بھی چشم حزیں میں نہیں رہا
اُن کی طلب میں کتنے تہی دست ہو گئے

بے سود لا رہے ہیں طبیبوں کو خیر خواہ
اس چارہ گر کو کوئی نہ لائے تو کیا کروں

اک برق جلوہ گر ہوئی پانی کے روپ میں
کوہ گراں بھی اشک رواں نے بہا دیے

بعض اوقات یہ حوالے خیال محسوس کی صورت سامنے آتے ہیں

وہ زلفِ یار یوں برہم ہے جیسے
نظامِ دو جہاں زیرو زبر ہے

اور آخر میں وہ غزل جو روایت میں ڈوبی ہوئی بھی ہے اور مثل آبشار نغمہ سرا بھی ہے۔

غارت گر دل کاکل جانانہ کھڑی ہے
اب موت مری گھات میں دزدانہ کھڑی ہے
یہ حسرت ناکام تری رہگزر میں
اک عمر سے باہمت مردانہ کھڑی ہے
کیوں مری خودی وصل کا احسان اٹھائے
جب ہجر میں باشوکت شاہانہ کھڑی ہے
اُس آنکھ کی مستی کا ہے عالم ہی نرالا
رندوں کے لیے کھول کے میخانہ کھڑی ہے
کچھ لا نہ سکی شرم سے بے مائگی میری
ہاتھوں پر لیے جان کا نذرانہ کھڑی ہے
اب آ کہ پس مرگ تری بادہ فروشی
تربت پہ اٹھائے ہوئے میخانہ کھڑی ہے

الغرض، “بیتابی” ایک ایسا مجموعہ شعر ہے جو قاری کو ذہنی بالیدگی اور قلبی انشراح عطا کرتا ہے۔ یہ یقیناً اردو ادب میں ایک عمدہ اضافہ ہے اس لیے میں اس شعری نوشتہ کا خیر مقدم کرتا ہوں اور خواہش رکھتا ہوں کہ خواجہ بلند اقبال کا قلم اسی طرح زرخیز رہے گا اور متلاشیان ادب کے دل و دماغ کو پُر بہار رکھے گا۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد اسحاق قریشی
صدر مرکز تحقیق، فیصل آباد
سابق وائس چانسلر محی الدین، اسلامی یونیورسٹی
نیریاں شریف، آزاد کشمیر
مؤرخہ 30۔ جنوری 2007ء