حضرت خواجہ محمد یار فریدی رحمتہ اللہ علیہ

( 1881 - 1948 ) پیدائش 1300 ھ ۔ وصال 1367 ھ
رابطہ | بیتابی | فوائد الفواد | شان فقر | عہد حاضر اور تصوف | گفتگو | عہد وفا | خوشبوئے حسان | عارفانہ تفسیر | تعارف
English Site
پڑھنے میں دشواری

حضرت خواجہ محمد یار فریدی رحمتہ اللہ علیہ کمپلیکس

اسلامی تعلعیمات کا حسن اور انفرادیت ہے کہ ان میں فرد سے معاشرہ تک، مادہ سے روح تک، احکام سے اخلاق تک اور ظاہر سے باطن تک ہدایات موجود ہیں، حقوق اللہ کی سر بلندی اور سطوت کے ساتھ حقوق العباد کو اساسی اور ضروری حیثیت حاصل ہے۔ عہد رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اور عصر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمیعن کا امعانی جائزہ واضح کرتا ہے کہ کس طرح دین حنیف نے ذہنی آسودگی، قلبی توانائی اور جسمانی بالیدگی کا اہتمام کیا، اس ہمہ جہتی پیش رفت کا نتیجہ یہ نکلا کہ معاشرتی استحکام اور سماجی استقلال نے جنم لیا، تمیز بندہ و آقا کے رجحانات نے دم توڑا تو اخوت اسلامی کے حسین دور کا آغاز ہوا، انسان آج مادی آسائشوں کے اس مقام پر ہے کہ جس کا تصور بھی کبھی نہ ہو سکتا تھا۔ مگر بے کلی، بے چینی ، اور گھمبیر اضطراب نے انسان کو احسن تقویم کے عروج سے یوں محروم کیا ہے کہ اسفل السافلین کی دلدل اس کا مقدر بن چکی ہے، اسلام نے روز اول ہی سے یہ حقیقت آشکار کر دی تھی کہ انسان کے لیے حسنات آخرت کے ساتھ حسنات دنیا کی طلب بھی ضروری ہے، دنیا سے اپنا جائز حصہ لے لینے کا ارشاد اسلامی تعلیمات کی ہمہ گیریت کو واضح کر رہا ہے۔ یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ باطنی طہارت کے لیے مجاہدوں کے ساتھ دنیاوی کامرانیوں کی تگ و دو بھی کی گئی ۔ قرنِ خیر میں تو روح و مادہ دونوں حصول خیر کے لیے اہل سرگرم عمل تھے توازن کا دورانیہ، شرف انسانیت کی راسخیت کا دور تھا، بعد کے ادوار میں یکتائی کردار کی مجموعی شکل نایاب ہونے لگی مگر معاشرت کی عمومی روش پھر بھی برقرار رہی، اگر فقہاء کرام نے سیرت و کردار کے عملی پہلوؤں کی استواری کے لیے رہنمائی کے چراغ روشن کیے تو صوفیاء کرام نے تطہر باطن کے منصب کو استقامت اور تسلسل عطا کیا۔ علم کدے آباد ہوئے کہ ہر خطہء زمین کا انسان ان کی نورانیت سے فیض یاب ہوا تو مسندوں، زاویوں اور خانقاہوں کا اک جہاں بھی تعمیر ہوا جس سے انسان دوستی، مساوات اور ہم جہتی خیر کا بول بالا بھی ہوا، تپتے صحراوں کے باسیوں کے لیے یہ مراکز محبت شجر سایہ دار ثابت ہوئے، تاریخ گواہ ہے کہ قریہ قریہ اور بستی بستی قاسم رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار عالی سے فیض یاب صوفیاء کے قافلہ نور نے انسانیت کے ہر زخم پر مرہم رکھا۔ پہاڑوں کی دشوار گزار چوٹیاں ہوں یا ہلاکتوں کے مسکن صحراوں کے بھیانک اطراف یہ قافلہ رشد و ہدایت ہر طرف رواں دواں رہا، انحطاط کے اس دور میں بھی ان خدا مست درویشوں کی پاکیزہ مگر تابدار زندگیاں راسست روی کی کفالت کر رہی ہیں، برصغیر تو اس حوالے سے زیادہ ہی خوش بخت نکلا کہ اس کے کونے کونے میں یہ قندیل نور اب بھی جگمگا رہی ہے اجمیر کا ناموافق ماحول ہو یا کلیر کا ویرانہ، لاہور کا معاند معاشرہ ہو یا اجودہن کا سنگلاخ میدان، نور ہدایت کا راستہ کہیں بھی روکا نہ جاسکا۔ سرائیکی کا نظر انداز کیا گیا علاقہ ہو یا ملتان کا زرخیز اور دامن کش خطہ، ہدایت و راہنمائی کا یہ سلسلہ ہر دور میں فلاح انسانیت کا علم اٹھائے رہا۔ صوفیاء کی خدمات یک طرفہ نہ تھیں کہ ان کا مقصود پورا انسان تھا جو مادی احتیاج بھی رکھتا ہے اور روحانی ارتقاء کی طلب بھی، تاریخ علم و حکمت گواہ ہے کہ ان مسیحانِ قوم نے کس طرح تعمیر انسانیت کا اہتما م کیا کہ روح بھی بیدار رہی اور جسم بھی توانا رہا۔
متعدد مراکزِ رشد و ہدایت میں ایک مرکز فیض رحیم یار خان ضلع کی ایک پر انوار بستی گڑھی شریف میں بھی موجود ہے، برصغیر پاک و ہند کا دینی طبقہ ہو یا علمی گروہ سب کو ماضی قریب کا ایک نام یاد ہے کہ اس دور افتادہ علاقہ سے ایک ایسا وجود نمودار ہوا جس کو نظم و نثر پر بھی یکساں قدرت حاصل تھی وہ صاحب عزیمت وجود بلا کا مقرر اور حیرت انگیز حد تک اثر آفرین واعظ تھا، شرط صرف یہ تھی کہ سماعت کے دریچے کھلے ہوں اور خواجہ محمد یار فریدی رحمتہ اللہ علیہ کی پرکیف آواز ہو۔ پھر تو سماعت بھی چٹخارے لیتی تھی اور روح بھی وجد کناں رہتی تھی، صوفیانہ گداز اس قدر ہمہ گیر ہوتا کہ سامعین دم بخود ہو جاتے سانسوں کو بھی چلنے کی اجازت نہ ہوتی ، لفظ لفظ کیف و سرمستی میں گندھا ہوتا اور لفظ زبانِ خواجہ رحمتہ اللہ علیہ سے یوں ادا ہوتے جیسے حلقہ زنجیر سے باہر۔ دم شمشیر کی خوش قسمتی یہ رہی کہ حضرت خواجہ رحمتہ اللہ علیہ کا یہ عشق آباد مرکز ان کے پردہ فرمانے کے بعد بھی رہا۔ خواجہ غلام نازک رحمتہ اللہ علیہ کی دھیمی چال اور ٹہرا ہوا لہجہ اس آتش عشق کو مسلسل مہمیز دیتا رہا۔ خواجہ غلام قطب الدین مدظلہ العالی جب مسند نشین ہوئے تو تب و تابِ قلندرانہ میں مزید نکھار آگیا۔ گڑھی شریف کے آستانہء رشد نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا کہ مسند ارشاد کے لیے نسبت شیخ کے ساتھ حوالہء علم بھی ضروری ہے۔ صوفیاء کے مراکز علم کی روشنی سے مستنبر ہوتے رہتے ہیں بلکہ یہاں تو علم صرف معلومات نہیں رہتا، واردات بن جاتا ہے، خواجہ غلام قطب الدین مدظلہ العالی کی شخصیت میں علمی وقار بھی ہے اور باطنی وجاہت بھی۔ آپ کا دل ہر لمحہ جانب خیر پیش قدمی کے لیے مچلتا رہتا ہے۔ یہ آپ کی اس درد آشنائی کا ہی فیضان ہے کہ آپ نے اپنے جد امجد علیہ الرحمتہ کے نام سے ایک مرکز خیر وفلاح بنانے کا ارادہ کیا ہے۔ دور دراز علاقے میں جہاں تمدنی معاونت بھی حاصل نہ ہو ایسا ارادہ باطنی قوت کا ہی مظہر ہو سکتاہے " حضرت خواجہ محمد یار فریدی رحمتہ اللہ علیہ کمپلیکس" ایک خواب محسوس ہوتا تھا۔ مگر دست گرہ کشا نے اسے ایک حقیقت بنا دیا یقیناً مستقبل قریب میں اس مرکز کی آب و تاب ہر صاحب و بصارت کو خیرہ کرے گی۔
Image "یہ کمپلیکس کیا ہے آئیے اس کا ایک طائرانہ جائزہ لیں"
۔۔۔ تقریباً ساڑھے تین ایکڑ پر پھیلا ہوا یہ کمپلیکس دین و دنیا کی کفالت کا مرکز ہے۔
۔۔۔ بارہ کروڑ کا تخمینہ اس مرکز کی وسعت و کشاکش کا آئینہ دار ہے۔
۔۔۔ حیرت ہے کہ اس خطیر رقم سے اس قدر وسیع کمپلیکس کو تین سال کی مدت میں مکمل ہونا ہے۔

Image


آئیے جائزہ لیں کہ اس قدر بڑا کمپلیکس اپنے جلو میں کیا لائے گا۔

صوفیاء کرام اور اولیاء عظام کے آستانے بنیادی طور پر فلاح و خیر کے مراکز ہوتے ہیں (الف)
کہ مقصود ایسی نسل تیار کرنا ہوتا ہے جو شمع ہدایت کو نئے عزم و یقین کے ساتھ فروزاں رکھے۔ اس کے لیے تعلیم و تدریس بنیادی حوالے ہوتے ہیں اس مقصد کے لیے فیصلہ کیا گیا ہے کہ
۱۔ تعلیمی ادارے قائم کیے جائیں۔ یہ ادارے دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان علوم پر بھی توجہ دیں جو عصر حاضر کے تمام ضروری مسائل کا حل پیش کر سکیں۔ اس کی ابتداء دو سکولوں اور دو کالجوں کے قیام سے ہوگی۔ اسلامی ثقافت کی حدود کے احترام میں بچے اور بچیوں کے لیے الگ الگ ادارے ہوں گے تاکہ تعلیمی پیش رفت میں حُریت فکر کی نمود ہو سکے یعنی یہ چار ادارے اس طرح ترتیب پائیں گے۔
خواجہ محمد یار ہائی سکول برائے طلبہ (i)
خواجہ محمد یار ہائی سکول برائے طالبات (ii)
خواجہ محمد یار کالج برائے طلبہ (iii)
خواجہ محمد یار کالج برائے طالبات (iv)
یاد رہے کہ یہ ترویج علم کی ابتدائی کاوش ہو گی۔ مستقبل میں حالات کی استواری کے مطابق خواجہ محمد یاررحمتہ اللہ علیہ یونیورسٹی بھی پیش نظر ہے۔
لائبریری کا قیام (ب)
تعلیمی پیش رفت کا رشتہ کتاب سے جڑا ہوا ہے اس لیے فیصلہ کیا گیا ہے کہ ایک لائق اعتماد کتب خانہ تیار کیا جائے تاکہ طلبہ / طالبات بلکہ دیگر طلب علم رکھنے والے اہل علم کو ایک مرکزی کتب خانہ میسر آجائے اور وہ بار بار کی سفری صعوبتوں سے بچ جائیں، علم ہر صاحب علم کے دروازے تک پہنچے، یہی معیاری معاشرے کا وصف ہوتا ہے۔
کمپیوٹر اکیڈمی (ج)
متوسلین درگاہ اور قرب و جوار کے نونہالوں کو جدید سہولیات سے بہرہ مند کرنے کے لیے ایک لائق اعتماد اور قابل حوالہ کمپیوٹر اکیڈمی قائم کی جا رہی ہے تاکہ نوجوان نسل تعلیمی بے توفیقی کا شکار نہ ہو جائے۔
تصوف اکیڈمی (د)
اس ساری تگ و دو کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ اخلاق و کردار میں وہ راستی آجائے جو ایک مومن صادق کی پہچان ہے اس لیے تصوف اکیڈمی کو اس مرکز علیمی کا لازمی حصہ بنایا گیا ہے جہاں تصوف کی تعلیم، صوفیاء کے خرد آفروز کارنامے اور کردار کی عملی تربیت کا اہتمام ہوگا۔ ان شاءاللہ یہ اکیڈمی دور حاضر میں تصوف کے نام پر اٹھنے والے سوالات کا عملی جواب مہیا کر کے اس چشمہ صافی سے ہر گھر کی سیرابی کے لیے ہمہ گیر کاوش ہو گی۔
کنونشن ہال (ہ)
دور جدید کے تقاضوں کی مناسبت سے ایک کنونشن ہال بھی کمپلیکس کا حصہ ہو گا جہاں ہر قسم کی تعلیمی پیش رفت کے لیے تمام جدید سہولیات میسر ہوں گی تاکہ گڑھی شریف کو شہری، تمدنی اور ثقافتی تقریبات سے روشناس کرایا جائے اور پس ماندگی کے داغ کو دھویا جائے۔ اس ہال میں تقریباً پانچ ہزار افراد کے بیٹھنے کی جگہ ہو گی تاکہ ہال عمومی تقریبات کے لیے اور محفل سماع کے لیے بھی استعمال ہو سکے۔
مسجد کی تعمیر (د)
احاطہ دربار شریف میں ایک وسیع و عریض مسجد کی تعمیر کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔
ہاسٹل (ز)
تعلیمی اداروں کی ترجیحی ضرورت دارالاقامہ ہوتا ہے کہ اس سے دور دراز کے طلبہ کو گھر جیسا سکون میسر آتا ہے۔ ایک ایسا ہاسٹل علمی منصوبے کا حصہ ہے جو رہائش کے ساتھ قیام و مطالعہ کی بھی جدید سہولیات سے مزین ہو گا۔
منصوبہ کے دیگر حصے
علم و آگاہی کے فروغ کا یہ پروگرام اپنی ابتدائی منزلیں طے کر رہا ہے اور انشاءاللہ تین سال کے مختصر دورانیہ میں اس کی صورت گری مکمل ہو جائے گی۔ اس علمی منصوبہ کے ساتھ ان ضروری امور پر بھی توجہ دی جارہی ہے جو آستانہ عالیہ کی وسعت کے ساتھ ان زائرین کی سہولت کے لیے بھی تجویز کی گئی ہیں جو سال بھر دن رات حضرت خواجہ رحمتہ اللہ علیہ کو خراج محبت پیش کرنے کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں درج زیل پیش رفت کا نقشہ تیار کیا گیا ہے۔
۱۔ حضرت خواجہ علیہ الرحمتہ کا مزار شریف جو لاکھوں انسانوں کی محبت کا مرکز ہے کو تعمیر نو کے مراحل سے یوں گزارا جائے کہ زائرین کے لیے باعث سکون ہو۔
۲۔ مزار شریف کے ساتھ زائرین کے لیے دیدہ زیب رہائش گاہیں تعمیر کی جائیں گی تاکہ انفرادی طور پر آنے والے اور خاندانوں کے ساتھ آنے والوں کو حسب ضرورت سہولت میسر ہو۔ یہ رہائش گاہیں دو حصوں میں تعمیر کی جائیں گی۔ ہر حصہ چار منزلوں پر مشتمل ہو گا اور ہر منزل پر بارہ کمرے ہوں گے اس طرح ساٹھ کمروں کا یہ تعمیراتی منصوبہ سب زائرین کو رہائش کی سہولت مہیا کرے گا۔ اس کا ایک حصہ خاندان کی ضرورتوں کے مطابق تیار ہو گا تمام کمروں کے ساتھ باتھ روم ہوں گے، اسی سلسلے میں خوش آئند خبر یہ ہے کہ یہ منصوبہ تکمیل کے مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔
۳۔ رہائش پزیر زائرین کے لیے لنگر دربار عالی مہیا کرے گا۔ اس لئے اس سے متصل ایک بڑا سٹور بنایا جا رہا ہے۔ جہاں ہر قسم کا ضروری سامان وافر مقدار میں موجود رہے گا۔ سٹور کے ساتھ وسیع باورچی خانہ ہو گا جہاں تقریباً پانچ ہزار زائرین کے لیے ہر قسم کے کھانوں کو پکانے کا انتظام ہو گا۔ یہ احتیاط کی جارہی ہے کہ باورچی خانہ طہارت و نظافت کا عملی ثبوت مہیا کرے تاکہ حفظان صحت کے اصولوں کی پاسداری ہوتی رہے۔
۴۔ سامان خوردونوش کے لیے سٹور اور بارچی خانہ کے انتظامات کے ساتھ ایک وسیع و عریض لنگر خانہ بھی تعمیر کیا جا رہا ہے جہاں تقریباً پانچ ہزار زائرین کے لیے کھانے کا انتظام ہو گا۔ یہ لنگر خانہ ہر سہولت سے آراستہ ہو گا جو دورانِ طعام پیش آسکتی ہے۔
۵۔ ڈسپنسری کا قیام
ہزاروں افراد، مرد ہوں یا عورت کا دن رات آمدورفت کا تقاضا تھا کہ ایک ایسی ڈسپنسری قائم کی جائے جو تمام سہولتوں سے لیس ہو تاکہ بوقت ضرورت کسی عمومی یا ناگہانی ضرورت کا ازالہ کیا جاسکے۔ انشاء اللہ وقت کے ساتھ اس ڈسپنسری میں وسعت پیدا کی جائے گی تاکہ وہ جلد ایک مکمل ہسپتال کا روپ دھار لے جس سے متوسلین و زائرین کے علاوہ اہل علاقہ بھی فیض یاب ہوں۔
۶۔ آفس
ان بنیادی ضروری تعمیرات کے لیے یہ بھی تجویز ہے کہ تمام انتظامات کے لیے ایک کشادہ آفس بھی تعمیر کیا جائے تاکہ معاملات کی درست نگرانی کی جا سکے۔
Image
۷۔ قیام گاہ
اس ضخیم کمپلیکس میں ایک مثالی قیام گاہ بھی منصوبے کا حصہ ہے جہاں حضرت خواجہ غلام قطب الدین مدظلہ العالی اپنے متوسلین سے ملاقات فرمائیں گے تاکہ رشد و ہدایت کا یہ سلسلہ ہمہ وقت جاری رہے۔
انسانی فکر و قوت کی راست روی ایسے منصوبوں کے لیے محرک بنتی ہے۔ حضرت خواجہ غلام قطب الدین مدظلہ العالی بھی فلاح خلق کے جذبوں سے سرشار ہیں اس لیے ان کی خواہش ہے کہ حضرت خواجہ محمد یار فریدی علیہ رحمتہ کے آستانہ کو علم و حکمت فکر و دانش اور اصلاح کا مرکز بنا دیں ۔ منصوبہ عظیم تر ہے مگر یاد رہے کہ صاحب عزم اصحاب کی ہمت خارا شگاف ہوتی ہے اور پیش قدمی کی اہل بھی، یقیناً یہ منصوبہ مختصر دورانیے میں ہی اپنی تکمیل کو پہنچے گا۔ یاد رہے کہ مردان باصفا ہی ایسی تاریخ رقم کیا کرتے ہیں
Image