حضرت خواجہ محمد یار فریدی رحمتہ اللہ علیہ

( 1881 - 1948 ) پیدائش 1300 ھ ۔ وصال 1367 ھ
رابطہ | بیتابی | فوائد الفواد | شان فقر | عہد حاضر اور تصوف | گفتگو | عہد وفا | خوشبوئے حسان | عارفانہ تفسیر | تعارف
Image
 عبدالنبی المختار خواجہ محمد یار فریدی رحمتہ اللہ علیہ گڑھی اختیار خان خان پور ( ریاست بہاولپور )میں 1300ھ/ 1881ء میں پیدا ہوئے۔ والد کا اسم گرامی (مولانا) عبدالکریم تھا ۔ قرآن مجید اور فارسی کی کتابیں جلال پور کے درس میں پڑھیں۔ بعض کتابیں علامہ محمد حیات رحمتہ اللہ علیہ سے پڑھیں پھر حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ کے مدرسہ چاچڑاں شریف میں حضرت مولانا تاج محمود سے آخری کتابوں کا مطالعہ کیا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اسی مدرسہ سے 1319 ھ بعمر 19 سال سند فراغت حاصل کی۔ حضرت خواجہ غلام فرید صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے ہاتھ پر بیعت ہوئے۔ پیر و مرشد کے وصال کے بعد دس سال تک آپ رحمتہ اللہ علیہ کے صاحبزادے خواجہ محمد بخش نازک کریم رحمتہ اللہ علیہ کے ساتھ رہ کر دارالعلوم سے استفادہ کیا اور معرفت الہٰیہ حاصل کی ۔ حضرت خواجہ نازک کریم رحمتہ اللہ علیہ کے فرزند حضرت خواجہ معین الدین رحمتہ اللہ علیہ نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کو خلافت سے نوازا اور اجازت بیعت بھی عطا کی۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے 1333ھ میں حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی۔
یہ مرشد ہی کی باطنی توجہ کا اثر تھا کہ حضرت خواجہ محمد یار فریدی رحمتہ اللہ علیہ کی رگ رگ میں عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا سوز وگداز بھرا ہوا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ رحمتہ اللہ کے عشق کا عالم یہ تھا کہ جہاں کسی نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا نام لیا آپ رحمتہ اللہ علیہ کی آنکھوں سے آنسووں کا سیلاب رواں ہو گیا۔ خاندان نبوت کا بھی آپ رحمتہ اللہ علیہ کے دل میں بے حد احترام تھا اور سادات میں سے کوئی شخص آپ رحمتہ اللہ علیہ کی محفل میں آجاتا تو آپ اسے سب سےنمایاں جگہ دیتے اور اس کی ہر طرح تعظیم و تکریم کرتے۔
آپ کی زبان میں ایسی تاثیر تھی کہ سنگ دل سےسنگ دل انسان بھی چند فقرے سن کر موم ہو جاتا تھا۔ آپ کی خطابت کا دور دور چرچا تھا۔ لوگ بڑی عقیدت اور توجہ سے آپ کا وعظ سنتے تھے۔ حضرت علامہ غلام مہر علی گولڑوی اپنی کتاب الیواقیت المہریہ میں لکھتے ہیں
ترجمہ:۔ میں نے آپ کی تقریر حضرت میاں میررحمتہ اللہ علیہ لاہوری کے عرس مبارک کے موقع پر سنی۔ میں نے دیکھا کہ آپ کے مبارک بیان کے دوران سامعین بحر عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں غوطے کھا رہے تھے اور یوں چیختے تھے کہ جیسے ان کی جان بدن سے نکالی جا رہی ہے۔ مجھے ان کی تقاریر نے خاص طور پر تقریر کرنے کا ولولہ دیا۔
مدینہ اولیاء لاہور میں آپ کی کثرت سے آمدورفت تھی۔ جب تشریف لاتے تو مسجد حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ ' بیگم شاہی مسجد اور مسجد بیرون مستی گیٹ میں ارشاد و تلقین کی محافل و مجالس گرم کیا کرتے تھے۔ نیز انجمن نعمانی ہند لاہور اور حزب الاحناف کے سالانہ اجلاس میں بھی شرکت فرمایا کرتے تھے۔ آپ کی مجالس میں پچاس پچاس ہزار نفوس کی شرکت ہوتی تھی۔ ساری عمر لاہور اور امرتسر کے علاقہ میں بالخصوص اور ہندوستان کے دوسرے مختلف مقامات پر بالعموم لوگوں کو وعظ و نصیحت سے مستفید کرتے رہے۔ چونکہ خود عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے دوسروں کو بھی اسی کا درس دیتے تھے۔ آپ کی تقریر سن کر عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا جذبہ خود بخود ابھرتا تھا۔
آپ مثنوی مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ بڑے دلکش انداز میں پڑھتے اور اس کی تشریح ایسے دلچسپ پیرائے میں کرتے کہ ہر شعر کے رموز و اسرار آئینے کی طرح روشن ہو جاتے تھے۔ ایک ملاقات کے دوران حضرت علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے بھی آپ سے مثنوی سنانے کی درخواست کی تھی جس پر آپ رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ موصوف کو ان کے دولت کدہ واقع جاوید منزل میں مثنوی سے محظوظ فرمایا۔ آپ جب لاہور تشریف لاتے تو حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ ' غازی علم الدین رحمتہ اللہ علیہ شہید اور حضرت علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ کے مزارات مقدسہ پر لازماً حاضری دیتے۔
سلسلہ چشتیہ کی روایت کے مطابق سماع سے آپ کو خاص لگاو تھا۔ قوالی بڑے زوق و شوق کے ساتھ سنتے اور آداب سماع کا مکمل خیال رکھتے تھے۔ کوئی شخص سماع میں بے ادبی یا بدتمیزی کا مظاہرہ نہیں کر سکتا تھا۔ آپ کو شاعری سے بھی شغف تھا۔ اردو' فارسی' عربی اور سرائیکی زبان میں شعر کہتے تھے۔ فلسفہ وحدت الوجود کے نہ صرف قائل تھے بلکہ اپنے دور میں اس کے ترجمان بھی تھے۔ محمد اور بلبل تخلص فرماتے تھے۔ آپ کا مجموعہ کلام"دیوان محمدی" کے نام سے موسوم ہے۔ آپ کا تمام کلام تاثیر میں ڈوبا ہوا ہے اور عرفان و آگہی کا ایسا دفتر ہے کہ پڑھنے والا اس سے بہت کچھ حاصل کر سکتا ہے۔
آپ نے 67 سال کی عمر میں 14 رجب المرجب 1367ھ بمطابق 1948ء پیر کی رات لاہور میں وصال فرمایا۔ آپ کو حضرت میاں میررحمتہ اللہ علیہ کے آستانہ عالیہ کی دیوار کی ساتھ بیرونی جانب امانتاً رکھا گیا۔ چھہ ماہ بعد آپ کا صندوق مبارک گڑھی اختیار خان منتقل کر کے موجودہ روضہ مبارک سے متصل جگہ میں رکھا گیا۔ اور 14 سال بعد آپ کو موجودہ مزار مبارک کے اندر منتقل کیا گیا۔ اسی امر کا اظہار آپ نے اپنے اس شعر میں اس طرح فرمایا ہے۔
Image
وہ  خاکسار ہوں   برھم   میرا مزار
کہ خاک ہو کے بھی ہر ذرہ اشکبار رہا
Image
 آپ کے آستانہ عالیہ پر علوم عربیہ کی ایک درس گاہ "قطب المدارس" کے  نام  سے قائم  ہے جس میں مقامی طلباء کے علاوہ بیرون جات سے بھی علم دین کے متلاشی آتے ہیں اور علم کی پیاس بجھاتے ہیں۔
آپ کے عرس مبارک کی تقریبات  سنہ 2006 تک ہر سال 12-13-14 رجب المرجب کو دھوم دھام سے منائی جاتی  رہیں  جس میں عقیدت مندوں کی کافی تعداد شریک ہوتی ہے۔ لیکن بعض اہم وجوہات کو مدنظر رکھتے ہوئے اور سلسلے کے تمام لوگوں کے ساتھ مشاورت کرنے کے بعد اب  عرس مبارک کی تقریبات انگریزی مہینے نومبر کی 12-13-14 تواریخ کو منائی جاتی ہیں۔ نیز ایک عرصے سےلاہور میں آپ کی شخصیت' حالات زندگی اور کلام پر مشتمل عظیم الشان سیمینار منعقد ہوتا ہے۔ جس میں نامور دانشور' ادیب اور شعراء آپ کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں
Image